8 اور 9 ستمبر 2012 مرکزی کنونشن
مجلسِ وحدتِ مسلمین پاکستان کا سالانہ مرکزی تنظیمی کنونشن اسلام آباد میں منعقد ہوا ، جس میں ملک بھر سے صوبائی اور ضلعی عہدیدادان نے شرکت کی، لاہور کے وفد نے سیکرٹری جنرل علامہ اقبال کامرانی کی قیادت میں شرکت کی ۔
اجلاس میں مختلف تنظیمی امور پر بات چیت ہوئی ، ملک میں جاری شیعان ِ علی کے قتلِ عام کے خلاف منظم اور محکم آواز اُٹھانے پر زور دیا گیا ، اس موقع پر ضلعی اور صوبائی کارکردگی رپورٹس بھی پیش کی گئیں جس سے ایک جانب تو اس ضلع کی نتظیمی صورتحال کا اندازہ ہوا اور دوسرا فائدہ تمام یونٹس کو ایک دوسرے کے کاموں سے حوصلہ اور لائحہ عمل ملا۔
عالمی پسِ منظر میں پاکستان کے شیعان کا سیاسی لائحہ عمل پر روشنی ڈالنے کے لئے ایک انتہائی مفید مزاکرہ بھی منعقد ہوا جس میں علماء اور سینئر تنظیمی افراد نے حصہ لیا ۔
تقریب کے آخر میں سیکرٹری جنرل کی تقریر اورپہتر کارکردگی پر حوصلہ افزائی کے انعامات بھی دئے گئے
ختتامی خطاب :
سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے دو روزہ کنونشن کے آخری سیشن سے اپنے خطاب میں کہا کہ دشمن کی یہ مسلسل کوشش تھی کہ ہم تقسیم رہیں لیکن یکم جولائی کی تاریخی قرآن و سنت کانفرنس میں علماء ذاکرین اور ملت کے ہر طبقے کی موجودگی سے دشمن مایوس ہوا اور آپ نے اپنی ہمت و کوشش سے یہ ثابت کردیا کہ ہم سب ایک ہیں اور انشاء اللہ ایک رہیں گے آپ نے کہا کہ ہم زندہ رہنے کے لئے میدان میں کھڑے نہیں ہیں بلکہ کربلا والوں کی طرح عزت سے مرنے کے لئے میدان میں اترئے ہیں
مجلس وحدت مسلمین شہیدوں کی امین جماعت ہے جو شہداء کے مشن کو لیکر آگے بڑھ رہی ہے۔ آج گلگت و بلتسان، وادی مہران کوئٹہ سے لیکر کراچی تک تنظیمی سیٹ اپ موجود ہے۔ ان دو سال پانچ ماہ میں ایم ڈبلیو ایم مظلوم تشیع کی امید بن چکی ہے۔ اس نے ایسے ایسے کام کئے ہیں جو بظاہر ممکن نہیں تھے لیکن کارکنان کی انتھک محنت کے نتیجے میں آج تنظیمی سیٹ اپ پورے ملک میں موجود ہے۔ ہمارے دشمن نے شیعہ قوم کو تقسیم کرنے کے لئے گزشتہ چالیس برسوں سے الجھایا ہوا تھا، داخلی، خارجی اور ہر محاذ پر قوم کی تقسیم کی جاری تھی۔ لیکن کراچی کے نشتر پارک نے قوم کے تمام دھڑوں کو متحد کر دیا ہے۔
علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ منظم دشمن کا مقابلہ اس سے بہتر طریقے سے منظم ہو کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ بہتر منصوبہ بندی اور تیاری سے دشمن کا مقابلہ کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ہونے والے ایم ڈبلیو ایم کے جلسہ عام میں اعلان کیا تھا کہ یہ سال میدان میں حاضر رہنے کا سال ہے۔ 25 مارچ کو کراچی کی سرزمین پر ہونے والے ایم ڈبلیو ایم کے پروگرام بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نشتر پارک پروگرام نے قوم کو امید دلائی ہے، آج ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ قوم جھکنے اور ڈرنے والی نہیں، اس قوم کے ووٹ کو کوڑیوں کے بھاؤ خریدا نہیں جاسکتا۔ اس اجتماع نے ثابت کیا کہ شیعہ قوم زندہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی جماعتوں نے شیعوں کو غلام سمجھا ہوا تھا، جبکہ بعض نےاس قوم کو لاوارث سمجھا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس باوثوق معلومات ہیں کہ ہمارے نوجوانوں کے قتل میں کراچی کی ایک جماعت ملوث ہے۔ ہم شہید ہونے کے لئے میدان میں نکلے ہیں۔ ہم ذلت کی زندگی پر عزت کی موت کو ترجیح دیتے ہیں۔ لٰہذا ہمیں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات سے ڈرایا دھمکایا نہیں جاسکتا۔
ایم ڈبلیو ایم کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ کراچی کے پروگرام کے بعد اسلام آباد میں دھرنا دیا گیا اور پوری دنیا میں شیعہ نسل کشی کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ شیعہ نسل کشی کی ذمہ داری وقت کے حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے۔ یہ سیاسی پارٹیاں ہمارے حقوق کے دفاع میں بری طرح ناکام رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے دفاتر سیاست بازی کی بجائے عبادات کے لئے مختص ہونے چاہیں۔ نوجوانوں کو رغبت دلاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران عراق جنگ کے دوران کم عمر کمانڈروں نے فتح حاصل کی، اس کی بڑی وجہ ان کا خلوص اور عبادت گزاری تھی۔
علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ ہمیں مسلسل اپنے آپ کو بہتر کرنے کے لیے تگ و دو کرنی چاہیے۔ ہمیں اہل عبادت اور اہل دعا ہونا چاہیے، تاکہ دشمن کا مقابلہ بہتر انداز میں کرسکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شیعہ قوم میں بہترین افراد موجود ہیں، ان کو موقع دینا ہوگا، تاکہ وہ قوم کے لئے کام کریں۔ بہترین افراد کو تلاش کیا جائے اور ان کے لئے تنظیم کے راستے کھولے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ خداوند کریم سے دعا ہے کہ خدا ہمارے بزرگوں کے دلوں کو ہمارے لئے نرم کر دے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں مسجد و امام بارگاہ کے زیادہ سے زیادہ قریب ہونے کی ضرورت ہے۔