دہشت گردی کی مذمت

کراچی میں آج ہونے والے بربریت کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں ، مجلسِ وحدت مسلمین پاکستان کی بیداری سے خائف سیاسی جماعتیں ہمارے جوانان کے قتل میں ملوث ہیں ، ہمارا مطالبہ ہے کہ جلد از جلد ان قاتلوں کو گرفتار کیا جائے ،اور کراچی میں امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کیا جائے ، ملک کے خلاف ہونے والی سازشیں بے نقاب ہو چکی ہیں ، اور سیاسی جماعتوں کا کالعدم تنظیموں سے اتحاد سامنے آ چکا ہے ، ہم ملک کی بقاء کے لئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

شیخ عمران
ڈپٹی سیکرٹری جنرل
مجلسِ وحدت مسلمین لاہور

لبیک یا رسول اللہ کانفرنس 21 اکتوبر لاہور

لاہور :

لبیک یا رسول اللہ کانفرنس اہلسنت علماء ، جماعتِ اسلامی کے امیرالعظیم ، ملی یکجہتی کونسل کے پیر عثمان نوری ، امامیہ آرگنائزیشن کے سابق مرکزی چیئر مین پرادر افسر خان ،صوبائی سیکرٹری تبلیغات مولانا احمد اقبال اور مرکزی سیکرٹری سیاسیات برادر ناصر شیرازی اور مرکزی سیکتڑی تبلیغات مولانا ابوزر مہدوی
پیر عثمان نورئ نے کہا کہ بات یہاں تک اس لئے پہنچی کہ ہم متحد نہیں ہیں ، دشمن اس لئے کامیاب ہے ، ہمیں ایک ہونا چاہیے، اگر خاکے بنانے پر ہی اس ملعون کو سزا دے دی جاتی تو بات یہاں تک نہ پہنچتی۔

امامیہ آرگنائزیشن کے سابق چئرمین افسر خان نے کہا کہ امام خمینی نے خبردار کیا تھا کہ امریکہ اسلام اور مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن ہے ۔ مگر امریکہ نواز مسلم حکمرانوں نے اس بات پر توجہ نہیں دی ،اور امریکہ کے دست نگر رہے، مگر امت کی بیداری ضرور ثمر آور ہو گی اور امریکہ نابود ہو گا

مولانا احمد اقبال نے اپنے خطاب میں کہا کہ شہید رضا تقوی کے خون نے اس تحریک کو مذید بیدار کیا ہے وہ سچا عاشقَ رسول تھا ، آج بیداری کی لہر ہر طرف پہنچ چکی ہے ، امریکہ اسلام کا سب سے بڑا دشمن ہے ، اپنے مفاد کے لیے ہمیشہ ڈکٹیٹرز کو سپورٹ کرتا ہے ،خدا امریکہ کی ہر سازش اس کی طرف پلٹ دے گا ،

امیرالعظیم نے کہا کہ ملت کی بیداری سے دشمن خائف ہے ، شہید رضا تقوی نے بتا دیا کہ استعمار کے خلاف جنگ اب اس جیسے پاکباز لوگ کریں گے ، بے ہوش خادم ِ حرمین شریفین کیا کر رہے ہیں ؟؟؟؟ امریکی مفادات کی جنگ لڑنے والے حکمران اب مایوس ہوں گے ، مسلمانوں کی وحدت سے خائف امریکہ کا ہر حربہ ناکام ہو گا۔
الحاج حیدر علی مرزا نے کہا کہ ہم امریکہ ، اس کے ہر ایجنٹ ، سپاہ صحابہ اور لشکرجھنگوی کو برار سمجھتے ہیں ، ڈی سی لاہور کل اس پروگرام کو روکنا چاہتا تھا ، ہم نے اس سے کہا کہ اگر الحمراء میں اجازت نہ ملی تو ہم باہر جلسہ کریں گے ، ہم پر امن لبیک یا رسول اللہ کانفرنس میں مطالبہ کرتے ہیں کہ شیعانِ علی کے قاتلوں کو گرفتار کرو ، رانا ثناءللہ ہمارا ہی نہیں پاکستان کا دشمن ہے، میاں صاحب اس کی نوکری بدل دیں ، شیعہ قوم الیکشن میں ہرانے یا جتانے کی طاقت رکھتی ہے ،

مرکزی سیکرٹری تبلیغات مولانا ابوزر مہدوی نے کہا کہ مسلمان ملک ہونے کے ناطے پہلی زمے داری حکومت پر یہ تھی کہ وہ ان ممالک کے سفیروں کو ملک بدر کرتی جو ممالک اس جرم میں شامل ہیں ، اس کے برعکس حکومتِ وقت نے ظالم کا ساتھ دیا اور ان کی حفاظت کو بڑھا دیا۔ہمارے جوان ہر طرح سے تیار ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ہمارا اصلی دشمن امریکہ و اسرائیل ہے۔

مرکزی سیکرٹری جنرل مجلسِ وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملت نے اپنی بیداری کا ثبوت دیا اور ہم نے حرمتِ رسول کے خلاف اس بہیمانہ حرکت پر شیطان بزرگ امریکہ کے خلاف اعلان ِ احتجاج کیا ، اور اس تحریک کے ماتھے کا جھومر شہید رضا تقوی بنا ، دشمن ہمارا خدا کی طرف سفر روکنا چاہتا ہے ، مذاہب و مسالک کے اندر جنگ پیدا کر کے لوگوں میں مذہب کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی سازش کی گئی ، تکفیری گروہ ایجنٹ ہیں۔ ایک ناسور ہیں، خدا و رسول کی طرف لوگوں کا سفر نہیں رکے گا ، یہ ہماری شعوری کوشش ہے کہ ہم اپنے اندر وحدت پر کام کر رہے ہیں
…………………………………………………………………………………
ہمیں پتہ تھا کہ اب(گستاخانہ فلم کے خلاف احتجاج کے بعد) کچھ واقعات رونما ہونگے ،ہمیں معلوم ہے کہ کراچی میں جو واقعات رونما ہورہے ہیں اس میں کس کس آلہ کار کو استعمال کیا جارہا ہے ۔
پہلا مرحلہ سنی بھائیوں کے اندر باہمی وحدت اور اسی طرح شیعوں میں بھی باہمی وحدت کا ہے ہمیں اپنی باہمی وحدت سے کفر کے فتوئے دینے والوں کو تنہاکرنے کی ضرورت ہے ۔
کافر کہنے والے اور کفر کے فتوئے لگانے والے کو بے نقاب کرنا چاہیے یہ اسلام ،انسانیت اور وطن کے دشمن ہیں شیعہ اور سنی کو اپنی وحدت سے انہیں الگ تھلگ کرنا چاہیے اگر یہ دندناتے رہے تو اس ملک کو سخت نقصان پہنچاینگے۔
کراچی میں اہل تشیع پر اگر ظلم و ستم ہورہا ہے تو یہ ظالم سوچ لیں کہ یہ صرف کراچی کے شیعوں پر نہیں بلکہ پوری دنیا کے اہل تشیع پر ظلم کر رہے ہیں اور ہم سب اکھٹے ہیں ۔
کراچی میں ہمارے قتل عام میں ہم حکمرانوں کو شریک سمجھتے ہیں ،سندھ کی حکومت کے ہاتھ ہمارے خون سے رنگے ہوئے ہیں یہ قاتلوں کے سرپرست اور ساتھی ہیں ، تمام حکمرانوں بشمول جرنلوں کے ہاتھ ہمارے خون سے رنگین ہیں اوران اندرونی اور بیرونی خائنوں کو بے نقاب کرنے کے لئے وحدت ضروری ہے .
ہمارا ایمان شیعہ سنی وحدت پر ہے اگر یہ وحدت نہ ہوگی تو اس وطن کے اندر شیطانی قوتوں کو اپنا کھیل کھیلنےکا موقع ملے گا۔

مجلسِ وحدت مسلمین لاہور شعبہ خواتین ریلی 23 ستمبر

مجلسِ وحدت لاہور شعبہ خواتین کی طرف سے گستاخانِ رسول کے خلاف ریلی کا انعقاد کیا گیا ، ریلی گورنر ہاؤس کے نزدیک الحمراء ہال کے سامنے سے شروع ہوئی لاہور بھر سے کثیر تعداد میں خواتین نے شرکت کی ،ریلی کا آغاز لبیک یا رسول اللہ کے فلک شگاف نعروں سے ہوا ، خواتین نے مختلف بینرز اُٹھا رکھے تھے جن پر توہین ِ رسالت کے مرتکب امریکی پادری اور امریکہ کے خلاف نعرے درج تھے ، خواتین سے خطاب میں مولانا ابوزر مہدوی نے فرمایا کہ ہم اپنے رسول کی توہین برداشت نہیں کر سکتے ، امریکہ دیکھ لے کہ مسلمان متحد ہیں ، امریکہ اپنے خرید کردو میڈیا اور حکومت کے ذور سے اس احتجاج کا رُخ نہیں موڑ سکتا ، ہم وقت کے یذید کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے ، شہید رضا تقوی جیسے جوان ہمارا فخر ہیں ۔

نعروں کی گونج میں خواتین پریس کلب کی جانب بڑھتی رہیں، شملہ پیاڑی سے پہلے امریکن قونصلیٹ کی حفاظت کے لئے لگے ہوئے کنٹینرز کے سامنے بھر پور نعرے لگائے گئے ، مردہ باد امریکہ ، مردہ باد اسرائیل ۔ ڈاؤن ود یو ایس اے کے نعروں سے علاقہ گونج اُٹھا ،

پریس کلب پہنچ کر خواتین سے خطاب میں آئی ایس او لاہور کی خواہر رباب نقوی نے کہا کہ ہم اس بھرپور احتجاج میں مجلسِ وحدت مسلمین کے ساتھ ہیں اور ہم اس ناپاک جسارت کے خلاف صدا بلند کرتے رہیں گے ، جب تک اس برائی کے مرتکب افراد کو سزا نہ دی جائے گی۔

مجلسِ وحدت مسلمین لاہور کی خانم سکینہ مہدوی نے پرجوش خطاب کیا اور کہا کہ دشمن دیکھ لے حُسین اور زینب کی ماننے والی خواتین میدانِ عمل میں ہیں ، ہم اپنے بچوں کے ساتھ مردوں کے شانہ بشانہ ہر جد و جہد میں شامل رہیں گے ، ہمارا ہتھیار وحدت ہے ، اس وقت دشمن ملت کی وحدت سے پریشان ہے ، جمعہ کو امریکہ کے زر خرید لوگوں نے پر امن احتجاج میں شامل ہو کر جو تشدد کیا ، یہ امریکہ کی ایک چال تھی، ورنہ شیعہ ، سنی متحد اور پر امن احتجاج کر ریے تھے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ امریکی سفارتخانے اس وقت تک بند کر دئے جائیں ، جب تک وہ ٹیری جونز اور اس کے ساتھیوں کو پھانسی نہ دے دیں ، صدر ِ پاکستان اقوام ِ متحدہ سے خطاب کرنے جا رہے ہیں ، وہ یاد رکھیں کہ اپنے آقا امریکہ کو خوش کرنے کی بجائے اپنی عوام کی نمائیندگی کریں اور اس گستاخانہ حرکت پر بھرپور آواز بلند کریں۔
انم سکینہ مہدوی نے کہا کہ اسلامی ممالک او آئی سی اقوام متحدہ کو احترام بین المذاہب قوانین بنانے پر مجبور کرے اور گستاخوں کو سز ا دلوانے تک مغرب سے بائیکاٹ کرے۔ انہوں نے کہا کہ وقت آنے پر اس قوم کی بہنیں اور بیٹیا ں اسلام پر جان تک قربان کرنے سے دریغ نہیں کریں گی۔ ریلی سے علامہ ابوذر مہدوی مرکزی رہنما مجلس وحدت مسلمین نے بھی خطاب کیا انہوں نے یوم عشق رسول اللہۖ پر شر پسندوں کی کاروائیوں کی مذمت کی اور شہید ناموس رسالت ۖ علی رضا تقوی کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ محمد عربیۖ کے غلاموں کی سر زمین پر انہی کو حکمرانی کا حق ہے۔ اگر انصاف نہ ملا تووزیر اعلی ٰ سند ھ کے دفاتر کا گھیرائو سمیت ملک گیر احتجاجی سلسلے دوبارہ شروع ہونگے۔ ریلی سے خانم لبنی ٰ زیدی، خانم ہما تقوی ، خانم عصمت نقوی نے بھی خطاب کیا۔ آخر میں مطالبہ کیا گیا کہ شان رسالت ۖ میں گستاخی کرنے والوں کو جس طرح امریکہ اپنے مجرموں کو لے جاتے ہیں ان ملعونوں کو مسلمانوں کے حوالے کیا جائے۔

عشقِ رسول اللہ ریلی لاہور ناصر باغ تا اسمبلی ہال

عشقِ رسول اللہ ریلی لاہور ناصر باغ تا اسمبلی ہال

مجلس وحدت مسلمین  کی ریلی میں تمام شیعہ اور سنی تنظیموں کی بھرپور شرکت ، علماء کی سرپرستی میں اسمبلی ہال تک پر امن مارچ ۔ جگہ جگہ خیر مقدمی بینرز آویزاں اور سنی تنظیموں کی طرف س بھرپور استقبال ۔ مولانا ابوزر مہدوی ، مولانا عبدالخالق اسدی ، مولانا احمد اقبال ، مولانا امتیاز کاظمی ، مولانا مظہر نقوی اور شیعہ شہریان کے وقارلحسنین اور دیگر علماء شامل تھے۔ ترانوں ، لبیک یا رسول اللہ ، شیعہ سنی بھائی بھائی ،امریکہ مردہ باد کے فلک شگاف نعرے ، نوجوانوں کا بھرپور جوش و جذبہ ،
شہیدِ ناموسِ رسالت  رضا تقوی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے بینرز آویزاں۔

مختلف جماعتوں کے مائک سے ایک دوسرے کے لئے خیر مقدمی نعرے ، جماعتِ اسلامی کے فلوٹ کی طرف سے مجلسِ وحدت مسلمین کے جلوس کا استقبال ۔ وحدت کا عملی مظاہرہ ، لبیک یا رسول اللہ ۔

علماء نے خطاب میں کہا کی حکومت سن لے ہمارا مطالبہ ہے کہ امریکہ سے سفارتی تعلقات ختم کئے جائیں اور اس گستاخی کا جواب مانگا جائے ، امریکی سفارتکاروں کو ملک بدر کیا جائے۔،ملت بیدار ہو چکی ہے اور اپنے دشمنوں کو پہچان چکی ہے ، آج وہ لوگ دیکھ لیں جو فرقہ واریت کا شور مچاتے ہیں ، تمام مسلمان ایک جگی ہیں ، ایک ساتھ ہیں ، ہم قدم اور ہم آواز ہیں۔ علماء نے کہا کی آج مسلمانانِ پاکستان ایک بات پر ایک مقصد پر متحد ہیں اور یہ امر طاغوتی طاقتوں پر بہت ناگوار ہے ، شیعہ سنی ، بھائی بھائی ہیں اور انشاللہ اسی طرح متحد ہو کر اندرونی اور بیرونی دشمنان کا مقابلہ کریں گے ، ہم تمام مسلمانان سے اپیل کرتے ہیں کہ امریکہ مردہ باد کا نعرہ ہم آج سے نہیں ، گزشتہ 32 سال سے لگا رہے ہیں ، اس آواز کو سمجھیں اور فرعون ِوقت کے خلاف مل کر جد و جہد کریں۔
اس دنیا میں بدی کا محور امریکہ ہے ، اگر ہماری سرزمین سے ایک مظلوم عافیہ کو اُٹھا کر امریکہ میں کیس چل سکتا ہے تو گستاخؤں کو ہمارے حوالے کرو ہم ان پر یہاں کیس چلائیں گے۔

https://www.facebook.com/photo.php?v=450056665037560

لاہور 17 ستمبر امریکن قونصلیٹ

لاہور

مجلسِ وحدت مسلمین لاہور ، امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن ، اور تمام شیعہ جماعتوں کے ساتھ ساتھ اہلِ سنت برادران عاشقانِ رسول کا لاہور پریس کلب کے باہر مظاہرہ کیا ۔

وحدت مسلمین کا عملی مظاہرہ پیش کیا گیا ، عاشقان رسول کے طرف سے لبیک یا رسول اللہ اور جانم فداک یا رسول کے فلک شگاف نعرے ۔

مظاہرے میں خواتین کی کثیر تعداد شریک تھی جو مسلسل نعرے بلند کر رہیں تھیں ، علماء کرام میں مولانا ابوزر مہدوی ، مولانا عبدلخالق اسدی ،مولانا احمد اقبال ،  مولانا حسن ہمدانی ، مولانا مصطفیٰ مہدی ، اور دیگر علماء نے شرکت کی ، نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ابوزر مہدوی نے فرمایا کہ ہم کسی صورت اپنی محبوب ترین ہستی کی توہین برداشت نہیں کر سکتے ، حکومت فی الفور اس بدی کے محور امریکہ کے وجودِ ناپاک کو ہماری پاک سر زمین سے نکال باہر کرے ،  ورنہ ہمارے جوان یہ کام خود سر انجام دیں گے۔ ہماری مائیں بہنیں ہمارے ساتھ ہیں ہم کار حُسینی اور کارِ زینبی ادا کرنے نکلے ہیں ۔

اس دوران خواتین لبیک یا رسول اللہ کے شعار بلند کرتی رہیں۔
عاشقانِ رسول نوجوان ، بزرگ و خواتین  امریکی قونسلیٹ کی جانب بڑھے ، پولیس کی لگائی  ہوئی رکاوٹوں کو توڑ ڈالا ، لاہور میں امریکی بدمعاشوں کی کمین گاہ کے مرکزی دروازے پر پہنچنے سے پہلے پولیس کا لاٹھی چارج شروع ہو گیا ، آنسو گیس پھینکی گئی ، خواتین کے درمیان گرنے والے آنسو گیس کے شیل کو ایک خواہر نے دوسری طرف پھینک دیا ، اور بتا دیا کہ ہماری بہنیں ہر مقابلے کے لئے تیار ہیں۔

پولیس سے جھڑپ کے بعد نوجوانوں اور علماء قونسلیٹ کے مرکزی دروازے پر پہنچ گئے ، اور دروازے پر امریکی پرچم جلایا ، پولیس کے بار بار لاٹھی چارج کے باوجود خواتین ، بزرگ اور بچے بھی جوانوں کے ساتھ رہے ۔ اس دوران ہماری خواہر مائک پر خطاب فرماتی رہیں اور جوانوں کا حوصلہ بڑھانے کے لئے کربلا کا زکر کرتی رہیں۔پولیس سے یہ سوال کرتی رہیں کہ تم مسلمان ہو یا  امریکی جانور ۔۔۔یہ تمہارے نبی کو توہین کرتے ہیں اور تم ان کی حفاظت ۔

امریکہ مردو باد اور لبیک یا رسول اللہ سے گونجتا ہوا علاقہ میدان ِ جنگ کا منظر پیش کر رہا تھا ،

خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پنجاب علامہ عبدالخالق اسدی نے کہا کہ کراچی میں نہتے عاشقان رسول(ص) کی ریلی پر پولیس اور رینجرز کی فائرنگ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مملکت خداداد پاکستان کی باگ دوڑ اب بھی شیطانوں کے ہاتھ میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی جی سندھ فیاض لغاری، اے آئی جی اقبال محمود اور سانحہ کے اصل ذمہ دار ڈی آئی جی مشتاق مہر کو فوری برطرف کیا جائے اور ان پر توہین رسالت کے مرتکب لوگوں کو معاونت کرنے کے جرم کے مطابق ایف آئی آر درج کر کے قرار واقعی سزا نہ دی گئی تو حالات کی ذمہ دار سندھ حکومت ہو گی۔ علامہ اسدی نے کہا کہ پاکستان کی بنیاد اللہ تعالیٰ اور عقیدہ ختم نبوت پر رکھی گئی اور ہم وطن عزیز میں کسی بھی شر
پسند کو یہ اجازت نہیں دینگے کہ وہ گستاخوں کو پناہ اور عاشقان رسول(ص) پر ظلم کریں، اگر حکومت نے ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئے تو عاشقان رسالت خود ان کے لئے سزائیں تجویز کرنے پر مجبور ہوں گے۔

آغا ابوزر مہدوی نے سورہ فتح تلاوت فرما کر اس بات کا اعلان کیا کہ ہم جب چاہیں ہر رکاوٹ عبور کے سکتے ہیں ،اس کے بعد علماء نے جوانوں سے خطاب کیا اور فرمایا کہ آج کا یہ عظیم اجتماع ، عشق رسول کی دلیل ہے ، عشقِ علی کی دلیل ہے ، ہم حرمتِ رسول پر اپنی جانیں قربان کر سکتے ہیں ، ہمارا احتجاج جاری رہے گا ، اس کے  بعد پریس کلب کے باہر دوبارہ جوانوں اور خواتین سے خطاب کیا ،مولانا عبدلخالق اسدی نے کارِ زینبی ادا کرنے والی خواتین کو سلام پیش کیا ، اور کہا کہ دشمن ہم سے اسی لئے خا ئف ہے کہ ہمارا کارواں ، کاروانِ حُسینی  ہے جس میں بچے ، بوڑھے جوان سب شامل ہیں ،

مجلسِ وحدت میڈیا ٹیم لاہور

Convention

8 اور 9 ستمبر 2012 مرکزی کنونشن

مجلسِ وحدتِ مسلمین پاکستان کا سالانہ مرکزی تنظیمی کنونشن اسلام آباد میں منعقد ہوا ، جس میں ملک بھر سے صوبائی اور ضلعی عہدیدادان نے شرکت کی، لاہور کے وفد نے سیکرٹری جنرل علامہ اقبال کامرانی کی قیادت میں شرکت کی ۔

اجلاس میں مختلف تنظیمی امور پر بات چیت ہوئی ، ملک میں جاری شیعان ِ علی کے قتلِ عام کے خلاف منظم اور محکم آواز اُٹھانے پر زور دیا گیا ، اس موقع پر ضلعی اور صوبائی کارکردگی رپورٹس بھی پیش کی گئیں جس سے ایک جانب تو اس ضلع کی نتظیمی صورتحال کا اندازہ ہوا اور دوسرا فائدہ تمام یونٹس کو ایک دوسرے کے کاموں سے حوصلہ اور لائحہ عمل ملا۔

عالمی پسِ منظر میں پاکستان کے شیعان کا سیاسی لائحہ عمل پر روشنی ڈالنے کے لئے ایک انتہائی مفید مزاکرہ بھی منعقد ہوا جس میں علماء اور سینئر تنظیمی افراد نے حصہ لیا ۔
تقریب کے آخر میں سیکرٹری جنرل کی تقریر اورپہتر کارکردگی پر  حوصلہ افزائی کے انعامات بھی دئے گئے

ختتامی خطاب :
سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے دو روزہ کنونشن کے آخری سیشن سے اپنے خطاب میں کہا کہ دشمن کی یہ مسلسل کوشش تھی کہ ہم تقسیم رہیں لیکن یکم جولائی کی تاریخی قرآن و سنت کانفرنس میں علماء ذاکرین اور ملت کے ہر طبقے کی موجودگی سے دشمن مایوس ہوا اور آپ نے اپنی ہمت و کوشش سے یہ ثابت کردیا کہ ہم سب ایک ہیں اور انشاء اللہ ایک رہیں گے آپ نے کہا کہ ہم زندہ رہنے کے لئے میدان میں کھڑے نہیں ہیں بلکہ کربلا والوں کی طرح عزت سے مرنے کے لئے میدان میں اترئے ہیں

مجلس وحدت مسلمین شہیدوں کی امین جماعت ہے جو شہداء کے مشن کو لیکر آگے بڑھ رہی ہے۔ آج گلگت و بلتسان، وادی مہران کوئٹہ سے لیکر کراچی تک تنظیمی سیٹ اپ موجود ہے۔ ان دو سال پانچ ماہ میں ایم ڈبلیو ایم مظلوم تشیع کی امید بن چکی ہے۔ اس نے ایسے ایسے کام کئے ہیں جو بظاہر ممکن نہیں تھے لیکن کارکنان کی انتھک محنت کے نتیجے میں آج تنظیمی سیٹ اپ پورے ملک میں موجود ہے۔ ہمارے دشمن نے شیعہ قوم کو تقسیم کرنے کے لئے گزشتہ چالیس برسوں سے الجھایا ہوا تھا، داخلی، خارجی اور ہر محاذ پر قوم کی تقسیم کی جاری تھی۔ لیکن کراچی کے نشتر پارک نے قوم کے تمام دھڑوں کو متحد کر دیا ہے۔

علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ منظم دشمن کا مقابلہ اس سے بہتر طریقے سے منظم ہو کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ بہتر منصوبہ بندی اور تیاری سے دشمن کا مقابلہ کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ہونے والے ایم ڈبلیو ایم کے جلسہ عام میں اعلان کیا تھا کہ یہ سال میدان میں حاضر رہنے کا سال ہے۔ 25 مارچ کو کراچی کی سرزمین پر ہونے والے ایم ڈبلیو ایم کے پروگرام بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نشتر پارک پروگرام نے قوم کو امید دلائی ہے، آج ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ قوم جھکنے اور ڈرنے والی نہیں، اس قوم کے ووٹ کو کوڑیوں کے بھاؤ خریدا نہیں جاسکتا۔ اس اجتماع نے ثابت کیا کہ شیعہ قوم زندہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی جماعتوں نے شیعوں کو غلام سمجھا ہوا تھا، جبکہ بعض نےاس قوم کو لاوارث سمجھا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس باوثوق معلومات ہیں کہ ہمارے نوجوانوں کے قتل میں کراچی کی ایک جماعت ملوث ہے۔ ہم شہید ہونے کے لئے میدان میں نکلے ہیں۔ ہم ذلت کی زندگی پر عزت کی موت کو ترجیح دیتے ہیں۔ لٰہذا ہمیں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات سے ڈرایا دھمکایا نہیں جاسکتا۔

ایم ڈبلیو ایم کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ کراچی کے پروگرام کے بعد اسلام آباد میں دھرنا دیا گیا اور پوری دنیا میں شیعہ نسل کشی کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ شیعہ نسل کشی کی ذمہ داری وقت کے حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے۔ یہ سیاسی پارٹیاں ہمارے حقوق کے دفاع میں بری طرح ناکام رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے دفاتر سیاست بازی کی بجائے عبادات کے لئے مختص ہونے چاہیں۔ نوجوانوں کو رغبت دلاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران عراق جنگ کے دوران کم عمر کمانڈروں نے فتح حاصل کی، اس کی بڑی وجہ ان کا خلوص اور عبادت گزاری تھی۔

علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ ہمیں مسلسل اپنے آپ کو بہتر کرنے کے لیے تگ و دو کرنی چاہیے۔ ہمیں اہل عبادت اور اہل دعا ہونا چاہیے، تاکہ دشمن کا مقابلہ بہتر انداز میں کرسکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شیعہ قوم میں بہترین افراد موجود ہیں، ان کو موقع دینا ہوگا، تاکہ وہ قوم کے لئے کام کریں۔ بہترین افراد کو تلاش کیا جائے اور ان کے لئے تنظیم کے راستے کھولے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ خداوند کریم سے دعا ہے کہ خدا ہمارے بزرگوں کے دلوں کو ہمارے لئے نرم کر دے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں مسجد و امام بارگاہ کے زیادہ سے زیادہ قریب ہونے کی ضرورت ہے۔

پاکستان تحریک ِ انصاف سے ملاقات

مجلسِ وحدت مسلمین کے ایک وفد نے علماء کی قیادت میں پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماء سردار آصف احمد علی اور اراکین سے ملاقات کی ، وفد کی قیادت مولانا ابوزر مہدوی نے کی ، ان کے ساتھ مولانا اقبال کامرانی ، مولانا حسن ہمدانی ، لاہور کے سیکرٹری سیاسیات سید حُسین زیدی ، شیخ محمد عمران ، فصاحت بخاری ، نقی مہدی اور مظاہر شگری بھی شامل تھے۔

تحریکِ انصاف کے رہنماء نے اپنی پالیسی بیان کی اور عمران خآن کے حالیہ بیانات کا زکر کیا جو انہوں نے شیعہ کلنگ کے حوالے سے دیے ، مجلس وحدت کے علماء نے مجلسِ وحدت کی سیاسی پالیسی کے بارے میں بتایا اور اس بات کو واضح کیا کہ ہم ایسی کسی جماعت سے بات نہیں کریں گے جو تکفیریوں اور شیعہ قوم کے قاتلوں کا ساتھ دے گی،

اس موقع پر مجلس وحدت لاہور کے  سیکرٹری سیاسیات سید حُسین زیدی نے کہا کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی طرف سے بیانات خؤش آئند ہیں مگر اب صرف بیانات سے کام نہیں چلے گا ، اگر پاکستان تحریکِ انصاف واقعی پاکستان میں امن و سکون کی خواہشمند ہے تو اسے عملی اقدامات کرنے ہوں گے ، انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ عمران خان وزیرستان جانے کے لئے تو ایک لاکھ سے زائد لوگوں کو ساتھ لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور مظلوم شیعان کے گھروں میں تعزیت کے لئے ان کے پاس وقت نہیں اگر گئے بھی تو چند افراد لے کر ، ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ شیعہ اس ملک کا 35 % ہیں ، اقلیت نہیں ،ہم اپنا حق لینا جانتے ہیں مگر ہمیں پاکستان کی سلامتی بھی عزیز ہے ، ہم امید کرتے ہیں کہ تحریکِ انصاف اپنی پالیسیوں پر غور کرے گی اور عملی اقدامات کرے گی ،

لاہور مناواں مظاہرہ ایف آئی آر درج

لاہور مناواں مظاہرہ
لاہور کے نواحی علاقہ مناواں باٹا پور میں 1 ستمبر کو سپاہِ یذید نے ایک مومن کے گھر پر حملہ کر کے علمِ حضرت عباس کی توہین کی اور  خواتین پر تشدد کیا ۔

شام سے مومنین  تھانے کے باہر جمع ہو گئے ، مجلسِ وحدت مسلمین پنجاب کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالخالق اسدی ، مرکزی رہنماء مولانا ابوزر مہدوی اور لاہور کی کابینہ کے اراکین نے شہر سے مومنین کو بلایا اور ایک بھرپور احتجاج کیا جق ابھی جاری ہے رات  2:30 کا وقت ہے اور ہمارا مطالبہ ہے کہ ملزمان کے خلاف توہینِ رسالت کی ایف آئی آردرج  کی جائے ۔

کئی گھنٹوں مزاکرات کے بعد ڈی ایس پی نے  ایف آئی آر کی یقین دہانی کرائی اور مجلسِ وحدت مسلمین کا ایک وفد تھانہ باٹا پور گیا ، جہاں 38 ملزمان کے خلاف  ایف آئی آر درج کی گئی ، پولیس نے مذید کاروائی کی یقین دہانی کرائی اور ملزمان کی جلد گرفتاری کا وعدہ کیا۔

واپسی پر مجلسِ وحدت مسلمین پنجاب کے جنرل سیکرٹری مولانا عبدالخالق اسدی نے خطاب کیا اور کہا کہ یہ قوم کی وحدت کا ثمر ہے کہ ہم آج سرخرو ہوئی ہیں اور ملزمان کے خلاف نامزد ایف آئی آر 295 اے کے تحت درج ہوئی ہے ، انہوں نے کہا کہ ہم شعائرِ عزاء کی حفاظت کے لئی جان بھی دے سکتے ہیں ، ہم انشااللہ اس مومن کے گھر پر علم دوبارہ لگائیں گے اور اسی شان و شوکت کے ساتھ ، ہمیں کوئی دبا نہیں سکتا ، ڈرا نہیں سکتا ، انہوں نے جوانوں کے جذبے کو سراہا اور فرمایا کہ جوانوں کا جوش بتا رہا ہے کہ ہم ہر چیز پر غلبہ پا سکتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ پوری رات سالارِ وحدت علامہ راجہ ناصر عباس جعفری ان سے رابطہ میں رہے اور حآلات کی خبر لیتے رہے، مومنین کو ایف آئی آر کی کی کاپی دکھائی گئی اور اس مشکل میں ثابت قدم رہنے پر شکریہ ادا کیا ۔